اردو نوٹس برائے جماعت نہم و دہم کے اس بلاگ میں آپ کو خوش آمدید ۔۔۔ .....📢🪂🏇🧗🤾..... ۔۔۔

جماعت نہم

تصاویر برائے اردو تخلیقی تحریر

فیچر پوسٹ

روز مرہ، محاورہ، ضرب المثل

روزمرہ، محاورہ اور ضرب المثل  روزمرہ،   محاورے اور ضرب الامثال کسی بھی زبان کا حسن ہوتے ہیں۔ خاص کر اردو زبان کے محاورے اس کا سب...

جمعرات، 23 مئی، 2019

حصہ نثر جماعت نہم نیا سلیبس بمطابق آغا خان بورڈ HISSA NASAR CLASS 9TH

حصہ نثر جماعت نہم
نیا سلیبس     بمطابق آغا خان بورڈ
درسی کتاب  :   وفاقی  ٹیکسٹ بک بورڈ اسلام آباد

سبق نمبر1: اخلاق حسنہ ،

                 مصنف: سید سلیمان ندوی ،               

صنف سخن/صنف ادب: سیرت نگاری

 سبق کا مرکزی خیال: سید سلیمان ندوی کے مضمون " اخلاق حسنہ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اچھے اخلاق انسانی زندگی کی کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔ اخلاق حسنہ انسان کو معاشرے میں باوقار بناتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ  کی زندگی بہترین اخلاق کا نمونہ ہے۔ سچائی، صبر ، عدل اور ہمدردی جیسے اوصاف سے انسان کی شخصیت نکھرتی ہے۔ ایک خوشحال اور پر امن معاشرہ اچھے اخلاق ہی کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔

مصنف کا تعارف: سید سلیمان ندوی ایک مشہور مسلمان عالم، مؤرخ، سوانح نگار اور ادیب تھے ۔ وہ 1884ء میں بھارت کے شہر دیسنہ (بہار) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں وہیں تدریس سے وابستہ ہوئے۔ ان کی مشہور تصنیف "سیرت النبیﷺ" ہے، جو انہوں نے علامہ شبلی نعمانی کے ساتھ مل کر لکھی۔ سید سلیمان ندوی 1953ء میں کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔

مصنف سید سلیمان ندوی کے انداز بیان کی چند خصوصیات:

مقصدیت اور اصلاحی انداز:   مصنف سید سلیمان ندوی کی تحریرات میں مقصدیت پائی جاتی ہے ۔ ان کا اولین مقصد مسلمانوں کی تربیت  اور اصلاح کرنا ہے۔

سادگی وروانی :ان کی زبان آسان اور عام فہم ہوتی ہے، جو ہر طبقے کے قاری کو سمجھ آجاتی ہے۔

دلائل و حوالہ جات کا استعمال: وہ اپنی بات کو مضبوط بنانے کے لیے تاریخی و عقلی دلائل پیش کرتے ہیں۔

اخلاقی اثر پذیری :ان کی تحریریں قاری کے دل پر اثر ڈالتی ہیں اور کردار سازی میں مدد دیتی ہیں۔

ادبی حسن :ان کے اسلوب میں ادبی چمک اور تاثیر پائی جاتی ہے، جو تحریر کو پر اثر اور خوبصورت بناتی ہے۔

سبق اخلاق حسنہ کے مختصر سوالات اور جوابات:

سوال 1: اخلاق سے کیا مراد ہے؟

جواب: اخلاق سے مراد باہم بندوں کے حقوق و فرائض کے وہ تعلقات ہیں جن کا ادا کرنا انسان کے لیے ضروری ہے۔

سوال 2: سب سے پہلا اور اہم تعلق کون سا ہے؟

جواب: سب سے پہلا اور اہم تعلق ماں باپ، اہل و عیال اور عزیزوں رشتہ داروں سے ہوتا ہے۔

سوال 3: انسان کے تعلقات کا سب سے بڑا دائرہ کیا ہے؟

جواب: سب سے بڑا دائرہ وہ تعلقات ہیں جو انسان باقی انسانوں سے قائم کرتا ہے۔

سوال 4: اخلاقی تعلیم کا کیا مقصد ہے؟

جواب: اخلاقی تعلیم کا مقصد انسان کو نیکی، سچائی، عدل، محبت، خیر خواہی اور ہمدردی جیسے اوصاف سکھانا ہے۔

سوال 5: نبی کریم ﷺ کی سیرت میں اخلاق کی کیا اہمیت ہے؟

جواب: نبی کریم ﷺ کی سیرت اخلاق حسنہ کی کامل ترین مثال ہے۔

سوال 6: قرآن مجید نے نبی ﷺ کے اخلاق کے بارے میں کیا فرمایا؟

جواب: قرآن مجید میں فرمایا گیا: "بیشک آپؐ اخلاق کے بلند درجے پر فائز ہیں۔"

سوال 7: نبی کریم ﷺ پر اخلاقی تعلیم کا آغاز کب ہوا؟

جواب: اخلاقی تعلیم کا آغاز آپؐ پر بعثت سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔

سوال 8: نبی ﷺ کے رشتہ داروں کا آپؐ کے بارے میں کیا بیان تھا؟

جواب: آپؐ کے رشتہ دار کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔

سوال 9: اخلاقی تعلیم کی بنیاد کیا ہے؟

جواب: اخلاقی تعلیم کی بنیاد عدل، انصاف، سچائی اور ہمدردی ہے۔

سوال : نبی کریم ﷺ نے خود کو کن الفاظ میں متعارف کروایا؟

جواب: آپؐ نے فرمایا: "میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ میں اخلاق حسنہ کی تعلیم مکمل کر دوں۔"

 سوال : حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے نجاشی کے دربار میں مسلمانوں کے اخلاق کے بارے میں کیا فرمایا؟

جواب: حضرت جعفرؓ نے فرمایا کہ مسلمان پہلے جاہل، بت پرست اور ظالم تھے، مگر نبی کریم ﷺ کی تعلیم سے وہ سچ بولنے، امانت داری، صلہ رحمی، حسن سلوک اور ظلم سے باز رہنے والے بن گئے۔

سوال : اسلامی تعلیمات اور اسوہ حسنہ نے عربوں کے اخلاق پر کیا اثر ڈالا؟

جواب: اسلامی تعلیمات نے عربوں کو جھوٹ، خیانت، بدکاری، ناپاکی اور ظلم سے نکال کر سچائی، امانت، پاکیزگی اور عدل و انصاف کی راہ پر لگا دیا۔

سوال : نبی کریم ﷺ کے اخلاق سے غیر مسلم کس طرح متاثر ہوئے؟

جواب: نبی کریم ﷺ کے اخلاق سے غیر مسلم بھی بہت متاثر ہوئے، یہاں تک کہ دشمن بھی آپؐ کو صادق و امین کہتے تھے۔

سوال : اسلام کے مطابق اخلاق کی اہمیت کیوں ہے؟

جواب: اسلام میں اخلاق کو ایمان کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے کیونکہ اچھے اخلاق فرد اور معاشرے دونوں کو بہتر بناتے ہیں۔

سوال :  انسان کی ظاہری عبادات کی قبولیت کے لیے اخلاق کیوں ضروری ہے؟

جواب: اگر انسان کا اخلاق درست نہ ہو تو اس کی عبادات، روزہ، نماز سب بے اثر ہو سکتے ہیں کیونکہ اخلاقی بگاڑ عبادات کے اثر کو زائل کر دیتا ہے۔

 سوال : ایمان کی سب سے اعلیٰ اور ادنیٰ شاخ کون سی ہے؟

جواب: ایمان کی سب سے اعلیٰ شاخ توحید کا اقرار ہے اور ادنیٰ شاخ یہ ہے کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا جائے تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔

سوال : کامل مومن ہونے کے لیے کون سی شرط بیان کی گئی ہے؟

جواب: کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔

سوال : اچھے مسلمان کی پہچان کیا بیان کی گئی ہے؟

جواب: اچھا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

سوال : ایمان کی تین نمایاں علامتیں کون سی ہیں؟

جواب: (1) حق بات کے سامنے جھگڑنے سے باز رہنا، (2) جھوٹ سے بچنا، (3) تقدیر پر یقین رکھنا کہ جو ہونا ہے، وہ ہو کر رہے گا۔

سوال: نبی کریم ﷺ کے نزدیک سب سے بہتر اسلام کیا ہے؟

جواب: سب سے بہتر اسلام یہ ہے کہ بھوکوں کو کھانا کھلایا جائے اور جانے انجانے ہر ایک کو سلام کیا جائے۔

سوال: مومن کی کون سی صفات قابلِ تعریف ہیں؟

جواب: مومن وہ ہے جو دوسروں سے محبت کرے اور جس سے لوگ محبت کریں، وہ طعنہ زن، بد زبان یا گالی دینے والا نہیں ہوتا۔

سوال : نبی کریم ﷺ نے مسلمان بھائی کے ساتھ کیا سلوک کرنے کی تعلیم دی ہے؟

جواب: مسلمان، دوسرے مسلمان کا بھائی ہے؛ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ گالی دیتا ہے، اور اگر وہ مشکل میں ہو تو اس کی مدد کرتا ہے۔

سوال:  اپنی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ تحریر کیجیے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے آپ نے کسی دوست کے ساتھ حسن خلق کا سلوک کیا ہو؟

ایک بار ہمارے محلے کے ایک غریب بچے کے اسکول کی فیس جمع نہ ہو سکی۔ وہ بہت پریشان تھا اور رونے لگا۔ مجھے نبی کریم ﷺ کی سیرت یاد آئی کہ آپؐ غریبوں کی دل کھول کر مدد کیا کرتے تھے۔میں نے اپنی جیب خرچ سے کچھ پیسے دیے اور اپنے والد سے بھی مدد کی درخواست کی۔ ہم دونوں نے مل کر اس کی فیس جمع کروا دی۔

اگلے دن وہ بچہ خوشی خوشی اسکول آیا اور اس کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے۔ مجھے دلی سکون ملا کہ میں نے رسول ﷺ کے اخلاق پر عمل کرتے ہوئے کسی کی ضرورت پوری کی۔



 سبق نمبر 2: کتبہ 

مصنف: غلام عباس 

صنف سخن/ صنفِ ادب: افسانہ 


سوال: صنف سخن "افسانہ" کی تعریف لکھیے. نیز اپنی درسی کتاب کے کسی ایسے سبق کا نام لکھیے جو اس تعریف پر پورا اترتا ہو۔

جواب: افسانہ ادب کی نثری صنف ہے۔ لغت کے اعتبار سے افسانہ جھوٹی کہانی کو کہتے ہیں لیکن ادبی اصطلاح میں یہ لوک کہانی کی ہی ایک قسم ہے۔ ناول زندگی کا کُل اور افسانہ زندگی کا ایک جزو پیش کرتا ہے۔ جبکہ ناول اور افسانے میں طوالت کا فرق بھی ہے اور وحدت تاثر کا بھی۔

سبق "کتبہ" افسانے کی مثال ہے۔


سوال: غلام عباس کے افسانے "کتبہ" کا مرکزی خیال لکھیے۔

جواب: غلام عباس کے افسانے "کتبہ" کا مرکزی خیال یہ ہے کہ انسان زندگی بھر ترقی اور پہچان کے خواب دیکھتا ہے مگر اکثر یہ خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔ شریف حسین کا کتبہ ساری عمر بیکار پڑا رہا اور بالآخر اس کی قبر پر ہی کام آیا، جو انسانی خواہشات کی ناپائیداری کو ظاہر کرتا ہے۔


سوال: غلام عباس کے انداز بیان کی چار ایسی خصوصیات تحریر کیجیے جو انھیں دیگر مصنفین سے ممتاز کرتی ہوں۔

جواب:

1. حقیقت نگاری (منظر نگاری): غلام عباس چھوٹی چھوٹی جزئیات اور روزمرہ زندگی کے مناظر کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قاری کو وہ سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہوتا محسوس ہوتا ہے۔

2. طنز و مزاح کا عنصر: ان کے انداز میں ہلکی پھلکی طنزیہ جھلک قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور سماجی کمزوریوں کو بے نقاب کرتی ہے۔

3. کردار نگاری کی نفاست: وہ عام اور متوسط طبقے کے کرداروں کو بڑی باریکی اور سادگی سے اس طرح پیش کرتے ہیں کہ وہ زندہ اور حقیقی محسوس ہوتے ہیں۔

4. سادگی اور روانی: ان کی زبان نہایت سادہ، رواں اور دل نشین ہے جو قاری کو بوجھل ہونے نہیں دیتی بلکہ آسانی سے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے۔


سوال: اپنی زندگی کی کسی ایسی خواہش یا کسی خواب کا ذکر کیجیے جو باوجود کوشش کے پورا نہ ہو سکا ہو۔


 جواب: طلباء خود سے جواب لکھیں البتہ نمونے کے طور پر چند جوابات ذیل میں درج ہیں۔

1: میری خواہش تھی کہ میں پائلٹ بنوں اور جہاز اڑاؤں۔ میں نے اس خواب کو پورا کرنے کی کوشش کی مگر وسائل کی کمی نے اجازت نہ دی۔ بالکل اسی طرح جیسے افسانے "کتبہ" میں انسان کی خواہشیں اکثر حالات کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں۔

2: میری خواہش تھی کہ میں ایک اچھی کتاب لکھوں۔ کئی بار آغاز کیا مگر مصروفیات نے پورا نہ ہونے دیا۔ یہ بھی اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ خواب ادھورے رہ جاتے ہیں، جیسے افسانے میں قبر پر کتبہ انسان کی نامکمل تمناؤں کی گواہی دیتا ہے۔

3: میری خواہش تھی کہ میں تیراکی سیکھوں، مگر مسلسل مشق نہ ہونے کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکا۔ یہ ناکامی مجھے یاد دلاتی ہے کہ انسان کی ہر کوشش منزل تک نہیں پہنچتی، جیسا کہ افسانہ "کتبہ" ہمیں زندگی کی ناپائیداری کا سبق دیتا ہے۔


سبق کے چند مزید اہم تفہیمی سوالات و جوابات 


1. افسانے "کتبہ" میں خواب اور حقیقت کا کیا تعلق دکھایا گیا ہے؟

جواب: خواب انسان کی آرزوؤں اور تمناؤں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن حقیقت اکثر ان خوابوں کی تکمیل نہیں ہونے دیتی۔ یہی المیہ شریف حسین کی زندگی میں دکھایا گیا ہے۔


2. کتبے کا غیر استعمال شدہ رہ جانا کس بات کی علامت ہے؟

جواب: یہ علامت ہے کہ انسان کی خواہشیں اور منصوبے اکثر ادھورے رہ جاتے ہیں اور تقدیر اپنے فیصلے نافذ کر دیتی ہے۔


3. مصنف نے شریف حسین کی شخصیت کو متوسط طبقے کے نمائندہ کردار کے طور پر کیسے دکھایا ہے؟

جواب: اس کی معمولی خواہشات، محدود وسائل اور خوابوں کی ناکامی اسے عام آدمی کے دکھ اور آرزوؤں کا عکس بنا دیتی ہے۔


4. افسانے میں طنز کا پہلو کہاں اور کیسے جھلکتا ہے؟

جواب: طنز اس بات پر ہے کہ ساری زندگی کتبہ بےکار پڑا رہا، اور آخرکار وہی کتبہ شریف حسین کی قبر پر لگا — یعنی خواب اپنی حقیقت میں بے معنی ہو گئے۔


5. کتبے کا انجام زندگی کی ناپائیداری پر کس طرح روشنی ڈالتا ہے؟

جواب: یہ دکھاتا ہے کہ دنیاوی عزت، شہرت یا منصوبے سب وقتی ہیں، اور آخرکار سب کچھ موت پر ختم ہو جاتا ہے۔


6. شریف حسین کی ناکامی قاری کو کس سماجی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے؟

جواب: یہ اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ معاشرے میں اکثر عام لوگ محنت اور خوابوں کے باوجود کامیابی نہیں پا سکتے۔


7. افسانے میں دکھائے گئے واقعات کس حد تک عام انسان کی زندگی سے میل کھاتے ہیں؟

جواب: یہ واقعات ہر اُس شخص کی زندگی سے میل کھاتے ہیں جو خواہشات تو رکھتا ہے لیکن حالات اور تقدیر کے باعث ان کی تکمیل نہیں کر پاتا۔


8. مصنف نے کردار کے خوابوں اور تمناؤں کو کس انداز میں پیش کیا ہے؟

جواب: مصنف نے ان خوابوں کو حقیقت پسندانہ، سادہ اور عام زندگی کے تناظر میں بیان کیا ہے تاکہ قاری ان سے جڑ سکے۔


9. کتبے کا سارا عرصہ بیکار پڑے رہنا افسانے کی فضا کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟

جواب: یہ فضا میں طنزیہ تلخی اور ناکامی کا احساس پیدا کرتا ہے، جس سے قاری کو کردار کی محرومی گہری محسوس ہوتی ہے۔


10. غلام عباس کے اسلوب کی سادگی قاری کی تفہیم میں کس طرح مدد دیتی ہے؟

جواب: سادہ اور رواں زبان کی وجہ سے قاری آسانی سے افسانے کے پس منظر اور اس کی علامتی معنویت کو سمجھ لیتا ہے۔


11. شریف حسین کی شخصیت سے ہمیں انسانی نفسیات کا کون سا پہلو معلوم ہوتا ہے؟

جواب: یہ کہ انسان ہمیشہ اپنی پہچان اور کامیابی کا خواہاں رہتا ہے، چاہے حالات اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔


12. افسانے میں وقت کا گزرنا اور زندگی کا بدلنا کس پہلو کو اجاگر کرتا ہے؟

جواب: یہ دکھاتا ہے کہ وقت سب خوابوں اور خواہشوں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے اور انجام صرف فنا ہے۔


13. افسانے کا اختتام قاری پر کیسا اثر ڈالتا ہے؟

جواب: اختتام قاری کو چونکا دیتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ انسان کی ساری محنت اور خواب بالآخر موت کے سامنے بےمعنی ہو جاتے ہیں۔


14. "کتبہ" کو انسانی ناکامیوں کا استعارہ کیوں کہا جا سکتا ہے؟

جواب: کیونکہ کتبہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ انسان کی بیشتر کوششیں ادھوری رہتی ہیں اور صرف ایک یادگار کے طور پر پیچھے رہ جاتی ہیں۔


15. آپ کے نزدیک افسانہ "کتبہ" کا سب سے اہم سبق کیا ہے؟

جواب: یہ کہ انسان کو زندگی کے خواب دیکھنے چاہئیں، لیکن ساتھ ہی حقیقت کو سمجھ کر عاجزی اور صبر کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے۔


سبق  نمبر 3: بھیڑیا

مصنف کا نام:  فاروق سرور

صنف سخن: افسانہ

سوال : افسانہ بھیڑیا کا مرکزی خیال لکھیے۔

جواب:  افسانہ "بھیڑیا" کا مرکزی خیال یہ ہے کہ انسان کی اصل غلامی بیرونی طاقتوں یا رکاوٹوں کی نہیں بلکہ اس کے اپنے دل کے خوف کی ہوتی ہے۔ درخت عارضی آسائشوں اور سہولتوں کی علامت ہے مگر وہ آزادی نہیں دے سکتا۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے بہادری اور قربانی ضروری ہے۔ بھیڑیا دراصل انسان کے اندر کا وہم اور خوف ہے جو بظاہر بہت طاقتور دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں کمزور ہے۔ مصنف کا پیغام یہ ہے کہ جو شخص اپنے خوف پر قابو پا لے، وہی حقیقی زندگی اور آزادی حاصل کر سکتا ہے۔

سوال : مصنف  فاروق سرور کے انداز بیان کی چند خصوصیات تحریر کیجیے ۔

جواب:

1. تمثیلی اور علامتی انداز:

مصنف نے بھیڑیے کو خوف اور بزدلی کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے جبکہ درخت آسائشوں اور وقتی سہولتوں کی علامت ہے۔ اس طرح وہ قاری کو گہرے معنوی پیغام تک پہنچاتا ہے۔

2. پُراثر منظرکشی اور جذبات نگاری:

مصنف نے کردار کی داخلی کیفیت کو بڑی فنکارانہ مہارت سے بیان کیا ہے۔ خوف، پسینے میں ڈوبا جسم، ڈراؤنے خواب اور آزادی کی خوشی—سبھی مناظر قاری کو براہِ راست اثر انداز کرتے ہیں۔

3. روانی و سلاست:

زبان سادہ مگر مؤثر ہے، جملے طویل ضرور ہیں لیکن روانی رکھتے ہیں۔ مکالمہ، خود کلامی اور منظر کشی کا امتزاج افسانے کو دلچسپ اور فکرانگیز بنا دیتا ہے۔

سوال:    اپنی روزمرہ زندگی سے کوئی ایسی مثال دیجیے جب کبھی آپ کسی چیز یا جانور سے خوفزدہ ہوئے تھے اور پھر اپنے خوف پر قابو پاتے ہوئے اس مشکل صورتحال سے نکل آئے ہوں۔

جواب: 

نمونہ 1:

ایک بار میں سائیکل چلا رہا تھا کہ کتا پیچھے بھاگا۔ شروع میں خوف محسوس ہوا مگر ہمت کر کے رُکا تو کتا خود ہی واپس چلا گیا۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ بالکل افسانے کے کردار کی طرح ڈر حقیقت میں اتنا طاقتور نہیں ہوتا۔

نمونہ 2:

بچپن میں اندھیرے سے بہت ڈرتا تھا۔ ایک رات بجلی گئی تو میں نے ہمت کی اور ٹارچ جلا کر کمرے سے باہر نکلا۔ یوں مجھے سمجھ آیا کہ اندھیرا بھیڑیے کی طرح صرف وہم ہے۔

نمونہ 3:

امتحان کے نتیجے کا خوف مجھے بہت بے چین کر رہا تھا۔ دعا اور حوصلے سے نتیجہ دیکھا تو کامیاب تھا۔ تب جانا کہ ڈر دراصل انسان کے ذہن کا بنایا ہوا "بھیڑیا" ہے جس پر قابو پانا ضروری ہے۔

افسانے کے چند تفہیمی نوعیت کے سوالات اور ان کے جوابات:

1. سوال: راوی کو درخت پر پناہ لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

جواب: کیونکہ بھیڑیا اس کا پیچھا کر رہا تھا اور وہ خوف زدہ تھا۔

2. سوال: درخت کو مصنف نے کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟

جواب: جادو کے درخت سے، جہاں خواہشات فوراً پوری ہو جاتی ہیں۔

3. سوال: درخت پر راوی کو کون سی سہولتیں میسر تھیں؟

جواب: نرم بستر، ٹی وی، کھانے پینے کی ہر چیز اور دیگر آسائشیں۔

4. سوال: ان سب آسائشوں کے باوجود راوی کس چیز کو ترس رہا تھا؟

جواب: آزادی کو۔

5. سوال: آزادی حاصل کرنے کے لیے راوی کو کیا کرنا تھا؟

جواب: اسے درخت سے نیچے اتر کر بھیڑیے کا مقابلہ کرنا تھا۔

6. سوال: رات کو راوی کو سب سے زیادہ کس اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا؟

جواب: ڈراؤنے خواب اور بھیڑیے کا خوف۔

7. سوال: دوسرے شخص نے درخت پر کیوں پناہ لے رکھی تھی؟

جواب: وہ بھی اپنے بھیڑیے سے خوف زدہ ہو کر درخت پر چڑھا تھا۔

8. سوال: دونوں بھیڑیوں کا ایک دوسرے سے کیا تعلق تھا؟

جواب: دونوں بالکل لاتعلق تھے اور صرف اپنے اپنے آدمی سے تعلق رکھتے تھے۔

9. سوال: راوی کا ساتھی کس طرح آزادی حاصل کرتا ہے؟

جواب: وہ نیچے کود کر بہادری سے اپنے بھیڑیے کو مار ڈالتا ہے۔

10. سوال: راوی نیچے کودنے کی ہمت کیوں نہ کر سکا؟

جواب: کیونکہ وہ بزدلی اور خوف کا شکار تھا۔

11. سوال: درخت میں اچانک کیا تبدیلی واقع ہوتی ہے؟

جواب: درخت چھوٹا ہونے لگتا ہے اور بھیڑیا بڑا ہونے لگتا ہے۔

12. سوال: راوی کو کس موقع پر یقین ہوتا ہے کہ وہ مر جائے گا؟

جواب: جب درخت چھوٹنے لگتا ہے اور بھیڑیا قریب آنے لگتا ہے۔

13. سوال: ساتھی نیچے سے راوی کو کیا مشورہ دیتا ہے؟

جواب: کہ وہ نیچے اترے، بھیڑیا محض خوف ہے اور اسے آسانی سے مار سکتا ہے۔

14. سوال: آخر کار راوی نے بھیڑیے کو کیسے مارا؟

جواب: درخت کی ایک پتلی سی شاخ سے وار کر کے۔

15. سوال: افسانے کا بنیادی پیغام کیا ہے؟

جواب: خوف انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے، بہادری دکھا کر ہی آزادی اور سکون حاصل کیا جا سکتا ہے۔












جماعت نہم پرانا سلیبس سال   25-2024ء

کتاب مجموعہ نظم و نثر

سبق نمبر1: صبح خیزی اور پڑھنے کے فائدے
مصنف: ڈپٹی نذیر احمد


مشقی سوالات سبق "صبح خیزی اور پڑھنے کے فائدے"

سوال1: مصنف ڈپٹی نذیر احمد کے اندازِ بیان کی چند خصوصیات تحریر کیجیے۔

جواب: مقصدیت اور  اصلاحی انداز:   ڈپٹی نذیر احمد کی تحریرات میں مقصدیت اور  اصلاحی و تربیتی انداز پایا جاتا ہے۔ انھوں نے خاص طور پر عورتوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت اور اصلاح کیلیے ناول، افسانے اور بے شمار کہانیاں تحریر کی ہیں۔

 طنز و مزاح کا عنصر: ڈپٹی نذیر احمد کی تحریرات میں طنز و مزاح کا عنصر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے انتہائی ہلکے  پھلکےانداز میں  ہمارے معاشرے کی خامیوں پر طنز کیا ہے اور اپنے افسانوں کے ذریعےانکی اصلاح کی کوشش کی ہے۔

مکالماتی انداز: ڈپٹی نذیر احمد کے ناول اور کہانیوں میں مکالماتی انداز پایا جاتا ہے۔ انھوں نے انتہائی لطیف انداز میں مفید اور سائنسی معلومات کو مکالمات کی صورت میں بیان کیا ہے۔

 بہترین کردار نگاری: ڈپٹی نذیر احمد کو کردار نگاری میں کمال حاصل ہے۔ انھوں نے اپنی تحریرات میں کرداروں  کو اس خوبصورتی سے پیش کیا ہے کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔

ماحول کی عکاسی: ڈپٹی نذیر احمد کی تحریرات میں ماحول کی عکاسی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے اپنے زمانے کاحالات وواقعات کو اس طرح پیش کیا ہے کہ قاری ان کے زمانے اور اُس دور کی تہذیب اور ثقافت سے  لطف اندوز ہوتا ہے ۔

سوال 2: سبق صبح خیزی اور پڑھنے کے فائدے کا مرکزی خیال اس طرح بیان کریں کہ مصنف کا پیغام واضح ہو جائے۔

جواب: سبق صبح خیزی اور پڑھنے کے فائدے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ  مصنف ڈپٹی نذیر احمد  ہمیں سمجھانا چاہتے ہیں کہ  ہم اپنی زندگیوں میں چند باتوں کا خیال رکھیں تو زندگی خوشحال  ہو جاتی ہے اور کام بھی آسان ہو جاتے ہیں۔  جیسا کہ صبح جلدی اٹھنے کے بے شمار فائدے ہیں، اس سے انسان دن بھر چست رہتا ہے۔ مطالعہ کتب سے علم بڑھتا ہے اور ہر طرح کی ہوشیاری آتی ہے۔  نیز مصنف نے  اس سبق میں امیروں کے دولت پر غرور کرنے کی پُر زور مذمت کی ہے۔

سوال 3: سبق صبح خیزی اور پڑھنے کے فائدے میں بتایا گیا ہے کہ محمودہ کو اس کی استانی نے صبح جلدی اٹھنے کے نصیحت کی تھی۔

 آپ کو بھی کسی استاد/استانی نے کبھی کوئی نہ کوئی نصیحت کی ہوگی۔ اس نصیحت کا آپ پر کیا اثر ہوا؟ اپنے الفاظ میں بیان کریں۔

جواب:   جب میں پانچویں کلاس میں پڑھتا تھا تو مجھے صبح   دیر تک   سونے کی عادت تھی، ایک روز میری استانی نےمجھے صبح جلدی اٹھنے کی نصیحت کی اور جلدی اٹھنے کا طریقہ بتایا کہ میں گھر میں  ایسے فرد کو تاکید کر دوں  جو صبح جلدی  بیدار ہوتا ہو ، میرے منہ پر چھینٹے مار کر جگا دیا کرے، شروع میں مجھے پریشانی ہوئی اور سر میں درد رہتا تھا لیکن آہستہ آہستہ  مجھے صبح خیزی کی عادت ہو گئی ۔ اب میں نہ صرف صبح جلدی اُٹھتا ہوں بلکہ  اسکول بھی جلدی پہنچتا ہوں ۔

سوال 4: سبق صبح خیزی اور پڑھنے کے فائدے کو مدنظر رکھتے ہوئے بتائیے کہ امراء کن عادات کے مالک ہوں تو ان کے کردار کی مذمت کرنی چاہیے؟

جواب: اگر دولت پا کر لوگ گھمنڈ اور غرور کریں اور یہ سمجھیں کہ وہی سب سے بڑے ہیں۔ جتنے بھی غریب ہیں وہ حقیر اور ذلیل ہیں اور ان کی ٹہل خدمت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ وہ آپ ہاتھ نہ ہلائیں اور دوسروں کی محنت سے آرام حاصل کریں۔ اپنی دولت سے غریبوں کا حصہ نہ نکالیں۔ تو ایسے امراء کے کرداروں کی مذمت کرنی چاہیے۔


سوال5: سبق صبح خیزی اور پڑھنے کے فائدے کو مدنظر رکھتے ہوئے بتائیے کہ امیر لوگ کن   خصوصیات کے حامل ہوں تو ان کے کردار کی  تعریف کرنی چاہیے؟

جواب: اگر دولت پا کر  انسان گھمنڈ اور غرور  نہ کریں اور یہ سمجھیں کہ  سب برابر  ہیں۔ جتنے بھی غریب ہیں وہ قابلِ احترام  ہیں اور ان کی ٹہل خدمت کے لیے پیدا  نہیں کیے گئے ۔ انھیں اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہو۔ وہ  اپنی دولت سے غریبوں کے لیے صدقہ خیرات نکالیں۔ تو ایسے امراء کے کرداروں کی تعریف کرنی چاہیے۔

سوال 6: تعلیم یافتہ لوگ  ان پڑھ کی نسبت اپنی زندگی سے کیسے زیادہ لطف اندوز ہوسکتے ہیں؟ روزمرہ زندگی سے دو مثالیں دے کر اس نقطے کی وضاحت کیجیے۔

جواب:  تعلیم یافتہ اور باشعور افراد دوسروں کے لیے بھی مددگار بنتے ہیں اور اپنی زندگی سے بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ 

مثلاً حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کرنے سے وہ صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔علم کے بل بوتے پر اپنے کاروبار کو فروغ دے کر کامیاب تاجر بن سکتے ہیں۔


اس کے علاوہ سبق کےچند تفہیمی سوالات برائے تیاری امتحان پیش ہیں۔ ان کے جوابات طلبہ خود سے لکھنے کی کوشش کریں۔
1: صبح جلدی اٹھنے کے چند فائدے بیان کریں۔
2: کتابیں پڑھنے کے کوئی سے تین فوائد تحریر کریں۔ نیز کتابیں نہ پڑھنے سے کیا نقصانات ہوتے ہیں؟
3: حسن آراء میں کیا خامیاں  پائی جاتی تھیں؟


سبق نمبر2: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
مصنف: سجاد  حیدر  یلدرم
مصنف کے اندازِ بیان کی چند خصوصیات:
طنز ومزاح کا عنصر:  سید سجاد حیدر یلدرم  نے اپنی تحریرات میں طنز ومزاح کے پھول کھلائے ہیں۔ لیکن ان کا مزاح سلجھا ہوا ہے۔ اس میں چُبھن تو ضرور ہے لیکن طنز کے تیر نہیں ہیں۔
خیال آرائی یلدرم کی تحریرات اور کہانیاں خیا لی ہیں۔ جن میں صداقت کی کمی ہے مگر یلدرم نے اس کمی کو اپنی بہترین خیال آرائی سے پورا کیا ہے۔ اس طرح قاری (پڑھنے والا) اسے حقیقت تصور کرتا ہے۔
جذبات نگاری جذبات نگاری میں یلدرم کو کمال حاصل ہے۔  اگرچہ انھوں نے کئی افسانے اور کہانیاں دوسری زبانوں سے ترجمہ کی ہیں، لیکن ان میں جذبات نگاری بھی اسی انداز سے کی ہے۔ اس لیے ان کی تحریرات کو  محض ترجمہ کہنا زیادتی ہوگا۔
ماحول کی بہترین عکاسی:  سجاد حیدر یلدرم کی تحریرات ہمارے ماحول کی بہترین عکاس ہیں۔ انھوں نے ہمارے روزمرہ مسائل کی طرف توجہ دلائی ہے۔
سبق کا مرکزی خیال:  سبق" مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مصنف سید سجاد حیدر یلدرم ہمیں یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ دوستی میں حد سے زیادہ بے تکلفی اکثر اوقات دوستی میں دراڑ پیدا کر دیتی ہے۔  مصنف کے مطابق دوستی کو  مضبوط رکھنے کیلیے  کچھ اصول  طے کر لینے چاہئیں ورنہ ایک دوسرے سے نفرت پیدا ہو جائے گی۔   ضرورت سے زیادہ بے تکلف دوست  تنہائی میں کام نہیں کرنے دیتے اور ہمارا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں۔ رات دیر تک بیٹھے رہنا، دعوتوں میں بلا لینا اور قرض مانگ لینا ایسی عادات ہیں جو دوستی کے نام پر دھبہ ہیں۔


اس سبق کا خلاصہ یہ ہے کہ سجاد حیدر یلدرم  ہمیں یہ سمجھا رہے ہیں کہ ہمیں دوستی کے لیے چند اصول طے کر لینے چاہئیں ورنہ حدسے زیادہ بے تکلف دوست آپ کا جینا دوبھر کر دیں گے۔

مصنف نے اپنی اپ بیتی بیان کی ہے کہ ایک روز چاندنی چوک سے گزرتے وقت اس نے ایک فقیر کو اپنی حالت زار لوگوں سے بیان کرتے ہوئے دیکھا. فقیر لوگوں سے یہ کہہ رہا تھا کہ "میں غریب الوطن ہوں میرا کوئی دوست نہیں، میری مدد کرو۔" یہ طرز اس کو خاص معلوم ہوا اور اس نے اس کی حالت کو اپنی حالت سے موازنہ کیا تو اسے ایک چیز میں وہ حد درجے بہتر نظر آیا, وہ یہ کہ فقیر کا کوئی دوست نہیں اور میرے بہت زیادہ دوست ہیں. مصنف اس شخص کو دل ہی دل میں خوش قسمت کہتے ہوئے گھر پہنچا, کہ فقیر کو فرصت ہی فرصت ہے اور نہ ہی روپیہ مانگنے والا کوئی دوست ہے۔

 سبق میں مصنف نے اپنے چار دوستوں کا ذکر بھی کیا. پہلے دوست احمد مرزا ہیں جنہیں وہ بھڑ بھڑیا دوست کہتا ہے. اگرچہ یہ کسی نہ کسی طرح اندر داخل ہو کر صرف ایک منٹ ہی بیٹھتے, اس ایک منٹ میں اتنا بولتے کہ سب خیالات ذہن سے چلے جاتے. دوسرے دوست محمد تحسین, بال بچوں والے ہیں جو جہاں بھی ہوں جو بھی بات کریں اپنے بچوں کی بیماری پر ہی کریں. تیسرے دوست مقدمے باز دوست, جنہیں صرف ریاست کے مقدموں پر ہی بولنا ہے۔

آخری دوست محمد شاکر خاں, باقی دوستوں سے ذرا مختلف ہیں. رئیس اور معزز آدمی ہیں. مگر ایک بار جب یہ مصنف کو اپنے گھر لے گئے اگرچہ ان کی خوب خاطر خدمت کی مگر مصنف کو لکھنے کا مکمل سامان مہیا نہ تھا مزید یہ کہ مصنف کو دو منٹ سکون کو لکھنے کے لیے میسر نہیں آیا, کبھی پرندوں کی آواز تو کبھی بھائی کی موسیقی آخر سب ختم ہونے کے بعد مصنف کو لکھنے کے لیے صرف اتنا وقت ملا کہ وہ سبق مکمل کرسکے.

 مصنف کے تمام دوست مصنف کا بہت خیال رکھتے ہیں لیکن سب دوست مصنف کا وقت ضائع کرتے ہیں اس لیے مصنف ان سے نالاں ہے اور یہ فیصلہ کر کے بیٹھا ہے کہ وہ سب کو چھوڑ دے گا.


سبق کےچند تفہیمی سوالات:


سوال نمبر1: سبق" مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" میں مصنف اپنے دوستوں کے رویے سے کیوں نالاں(ناراض) ہے اور انھیں چھوڑنا چاہتا ہے؟

جواب: مصنف اپنے دوستوں کے رویوں سے اس لیے ناراض ہے کیونکہ وہ اس کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں۔ کام نہیں کرنے دیتے۔ آرام میں خلل ڈالتے ہیں۔ پیسے ادھار مانگتے ہیں اور واپس نہیں کرتے۔ اس لیے مصنف انھیں چھوڑنا چاہتا ہے۔

سوال نمبر2: سبق" مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" میں مصنف نے کن امور میں خود کو فقیر سے کم تر تصور کیا ہے؟

جواب:

مصنف نے خود کو فقیر سے اس لیے کم تر تصور کیا کیونکہ: فقیر  ہٹا کٹا اور صحت مند ہے جبکہ مصنف نحیف و نزار ہے۔ مصنف رات دن فکر میں گزارتا ہے جبکہ فقیر بے فکری کی زندگی گزارتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ فقیر کا کوئی دوست نہیں جس نے اس کا مصنف کے دوستوں کی طرح جینا دوبھر کر رکھا ہو۔

سوال نمبر3: سبق" مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" کو مد نظر رکھتے ہوئے  آپ کے مطابق ایک اچھے دوست میں کیا خوبیاں ہونی چاہئیں؟ تین تحریر کریں۔

جواب:

اچھا دوست ہمیشہ مصیبت میں کام آتا ہے۔ آپ کی عزت و احترام کرنے والا ہو۔ آپ کو برے کاموں سے روکے اور نیک کاموں کی صلاح دے۔

سوال نمبر4: سبق" مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" کو مد نظر رکھتے ہوئے بتائیں کہ مصنف کے دوستوں(احمد مرزا،  محمد تحسین، مقدمے باز دوست اور شاکر خان کا رویہ مصنف کے ساتھ کیسا تھا؟ ہر ایک کا رویہ الگ الگ بیان کریں۔

جواب:

احمد مرزا: بہت باتیں کرتا، مصنف کے کام میں خلل ڈالتا، بغیر اجازت مصنف کے کمرے میں آ جاتا۔

محمد تحسین: ہمیشہ صرف اپنے بیوی بچوں کی بیماریوں کا ذکر کرتے، مصنف کا وقت ضائع کرتے اور آرام میں خلل ڈالتے۔

مقدمے باز دوست: ہر وقت دوسروں کی غیبت کرتے، مصنف کا وقت ضائع کرتے اور کام میں خلل ڈالتے تھے۔

شاکر خان: مصنف پیارا دوست تھا ہمیشہ مصنف کا خیال رکھتا تھا لیکن مصنف کا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا تھا۔۔ کام اور آرام میں خلل پیدا ہوتا تھا۔

سوال نمبر5:   " چاہے مجھ پر نفرین کی جائے مگر میں  یہ کہے بغیر نہیں   رہ سکتا  کہ آج تک میرے سامنے کوئی یہ نہیں ثابت نہیں کر سکا کہ احباب کا ایک جمِ غفیر رکھنے  اور شناسائی کے  دائرےکو وسیع کرنے کا کیا فائدہ ہے۔" 

     کیا آپ دیے گئے اقتباس میں  مصنف کے خیال سے اتفاق کرتے ہیں؟ دلائل سے واضح کریں

جواب: اس اقتباس میں مصنف کے پیش کردہ موقف سےمیں مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں کیونکہ ہمارے قریبی دوست ہمیشہ ہمارا وقت ضائع کرتے ہیں اور کام نہیں کرنے دیتے۔ مثلاً اگر ایک طالب علم اپنی دوستیاں نبھاتا رہے تو اس کی پڑھائی کا حرج ہوگا اور امتحان میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔



سبق نمبر3: تحریک
مصنف: منشی پریم چند
مصنف کے اندازِ بیان کی چند خصوصیات:
  : کردار نگاری: منشی پریم چند کو کردار نگاری پر عبور حاصل تھا۔ کسی بھی کردار کی خوبیوں اور مزاج کو اس طرح واضح کرتے گویا  ہم ان کرداروں کو اپنے سامنے موجود پاتے ہیں۔
   : مکالمہ نگاری: مکالمہ نگاری پریم چند کے افسانوں کی نمایاں خوبی ہے۔ ان کے افسانے پڑھ کر ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ہم دو افراد کے مابین ہونے والی گفتگو سن رہے ہوں۔
  :سادگی اور تسلسل: منشی پریم چند کے افسانوں اور تحریرات میں استعمال ہونے والی زبان انتہائی سادہ اور سلیس ہے۔  اگرچہ انھوں نے دیگر کئی زبانوں کے الفاظ استعمال کیے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے یہ الفاظ عوام میں رائج ہیں۔
  :مقصدیت:  پریم چند کی تحریرات میں مقصدیت کا عنصر نمایاں ہے۔ انھوں نے  اپنے افسانوں کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کی ہے۔
سبق کا مرکزی خیال:  
سبق تحریک کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کسی بھی شخص کی زندگی میں کبھی نہ کبھی  پیش آنے والا کوئی سانحہ  یا واقعہ یا اس شخص کی کسی سے والہانہ محبت  اسکی زندگی میں ایسی تحریک پیدا  کرتی ہے جو اس کی کایا پلٹ کر رکھ دیتی ہے۔ اوروہ غیر ذمہ دار سے ذمہ دار اور فرض شناس شہری بن جاتا ہے۔  اگرچہ اس سے پہلے اس کا کردار کتنا  ہی برا کیوں نہ ہو، وہ دوسروں کے سامنے عمدہ مثال بننے کیلیے اپنی عادات کو یکسر بدل دیتا ہے۔ نیز مصنف منشی پریم چند ہمیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں حکام  یا افسران بالا سے اگر اختلافات ہو جائیں تو حق پر ہونے کے باوجود اکثر اوقات نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتے ہے۔

سبق کےچند تفہیمی سوالات:
1:  سبق "تحریک " کو مد نظر رکھتے ہوئے مرکزی کردار  سورج  پرکاش کے منفی اور مثبت رویے بیان کریں۔ تین تین رویے تحریر کریں۔ 
2:سبق "تحریک " کو مد نظر رکھتے ہوئے بتائیں کہ  سورج پرکاش کے رویے میں مثبت تبدیلی کیوں کر (کیسے) ممکن ہوئی؟
3: موہن کی موت کیسے واقع ہوئی؟ اور اسکا سورج پرکاش پر کیسا اثر پڑا؟

سبق نمبر4: چراغ کی لَو
مصنف: ہاجرہ مسرور
مصنف کے اندازِ بیان کی چند خصوصیات:
  : دلچسپ اور سادہ انداز بیان ہاجرہ  مسرور نے  اپنی تحریرات میں انتہائی سادہ اور دلچسپ انداز اپنایا ہے۔ان کا انداز بیان عام روایات سے ہٹ کر ہے۔ اس لیے اسے اردو ادب میں بہت پسند کیا گیا ہے۔
  : طنز نگاری: ہاجرہ مسرور کی تحریرات میں طنز پایا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں طنز کے تیر چلائے ہیں اور خاص طور پر صاحب حیثیت اور امراء  کے کرداروں  کو نشانہ بنایا ہے۔
  : کردار نگاری: ہاجرہ مسرور کو کردار نگاری میں کمال حاصل تھا۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں کرداروں کے مزاج اور نفسیات  کا اس طرح نقشہ کھینچا ہے گویا وہ کردار جیتے جاگتے ہماری آنکھوں کے سا منے  نظر آتے ہیں۔

سبق کا مرکزی خیال: 
 سبق " چراغ کی لَو میں ہاجرہ مسرور ہمارے معاشرے کی بے حسی کو بیان کرنا چاہتی ہیں۔ اکثر امیر لوگ غرباء کا خیال نہیں رکھتے ۔ انھیں اپنا غلام سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں جو مال و دولت حاصل ہے اس میں سے غریبوں کی مدد نہیں کرتے۔ البتہ  ریاکاری اور دکھاوے کی خاطر دنیا کو دکھانے کیلیے غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔  نیز وہ ہمیں سمجھانا چاہتی ہیں کہ جو لوگ اپنی گھریلو ذمہ داریوں کا خیال نہیں رکھتے ان کے گھروں میں ہمیشہ مایوسی کے بادل چھائے رہتے ہیں۔

سبق کےچند تفہیمی سوالات:
1: ہاجرہ مسرور  نے اپنے افسانے "چراغ کی لَو " میں لفظ  تجارت کا استعمال کرتے ہوئے کس انسانی رویے کی طرف اشارہ کیا ہے؟
2: اچھن کی ماں کی موت کیسے واقع ہوئی تھی؟
3:  افسانہ "چراغ کی لَو" کو مدِ نظر رکھتے ہوئے   تبصرہ کریں کہ "غربت بچوں کی خواہشات کی قاتل ہے۔"
4:  افسانہ "چراغ کی لَو" کو مدِ نظر رکھتے ہوئے  بتائیں کہ اچھن کے گھر میں غربت کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ 
5: ہاجرہ مسرور نے اپنے افسانے کا نام "چراغ کی لَو " علامتی طور پر استعمال کیا ہے۔ آپ کے خیال میں چراغ کی لَو کا بڑھنا کس چیز کی علامت ہے؟
6:  افسانہ "چراغ کی لَو" کو مدِ نظر رکھتے ہوئے  بتائیں کہ اچھن چراغ کی لَو کیوں بڑھانا چاہتی تھی؟  نیز اسے گھر کے صحن سفید کپڑوں لپٹے  ڈھانچے کیوں دکھائی دیتے تھے؟

سبق نمبر5: نہ گھر کے نہ گھاٹ کے
مصنف: شفیع عقیل
مصنف کے اندازِ بیان کی چند خصوصیات:

محاورات اور ضرب الامثال کا استعمال: شفیع عقیل نے اپنے افسانوں میں محاورات اور ضرب الامثال کا  کمال مہارت سے استعمال کیا ہے۔

طنز و مزاح کا عنصر:   شفیع عقیل  نے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔  حق گوئی اور بے باکی ان کا شعار تھا ۔وہ کسی مصلحت کے قائل نہ تھے الفاظ کو فرغلوں میں لپیٹ کر پیش کرنا ان کے ادبی مسلک کے خلاف تھا ۔

سادگی اور تسلسل:   سادگی ، روانی اور تسلسل ان کے کلام کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔

سبق کا مرکزی خیال:  
  سبق " نہ گھر  کے نہ گھاٹ کے" کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اس میں مصنف شفیع عقیل جانوروں اور پرندوں کی مثال دے کر انسانوں کے خوشامد پسندانہ اور منافقانہ رویے کی  طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ  سمجھانا چاہتے ہیں کہ اپنی قوم اور گروہ کے ساتھ ہر حالت میں وفادار رہنا چاہیے. ان کے دکھ، درد، غمی،  خوشی  میں انکا ساتھ دینا چاہیے. ورنہ مصیبت میں اپنوں کو چھوڑ کر غیروں سے مل جانے والے دونوں طرف سے دھتکار دیے جاتے ہیں. اسطرح مایوسی اور شرمندگی انکا مقدر بن جاتی ہے. نیز ہمارے معاشرے میں غریب اور کمزور لوگوں کی رائے کی کوئی اہمیت  نہیں  سمجھی جاتی۔    علاوہ ازیں فتح  یا کامیابی کی خوشی کا جشن مناتے وقت  اعتدال سے کام لینا چاہیے اور اپنے دشمن سے کبھی غافل نہیں رہنا چاہیے۔
سبق کےچند تفہیمی سوالات:
1: اس سبق " نہ گھر  کے نہ گھاٹ کے"کے مطابق چمگادڑوں کے کردار کی چند خصوصیات تحریر کریں۔
2: آپ کے خیال میں ایک اچھے بادشاہ میں کن صفات کا ہونا ضروری  ہے؟
3: معاشرے میں باعزت مقام حاصل کرنے کیلیے انسان کو کن خصوصیات  کا حامل ہونا چاہیے؟
4:  اس سبق" نہ گھر  کے نہ گھاٹ کے" کے مطابق  پرندے اور درندے ایک بادشاہ کے انتخاب پر کیوں راضی نہ ہو سکے؟


سبق نمبر6: قائدِ اعظم اور نظم و ضبط
مصنف: قدرت اللہ شہاب
مصنف کے اندازِ بیان کی چند خصوصیات:
ماحول کی عکاسی:   قدرت اللہ شہاب  کی تحریرات میں ماحول کی عکاسی پائی جاتی ہے۔ وہ دیگر عوامل  جیسے حالات و واقعات کے ساتھ  ساتھ  اپنے زمانے کے  تاریخی حوالوں کا  بھی انتہائی خوبصورتی سےذکر کرتے تھے۔
 ذاتی مشاہدہ:    ان کی تحریرات کا زیادہ حصہ ان کے ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے ۔ اس لیے ان کی لکھی کہانیاں اور خاکے حقیقت پر مبنی ہیں۔  انھوں نے مبالغہ آرائی کی بجائے حقیقت پسندانہ  انداز اپنایا ہے۔
  سوانح نگاری:  قدرت اللہ شہاب ایک بہترین سوانح نگار تھے۔ انھوں نے اپنے دور کے عظیم لوگوں کے حالات ِ زندگی کو قلم بند کیا ہے۔
  طنز نگاری:   قدرت اللہ شہاب اپنے دور کے     بہترین نقاد تھے۔ انھوں نے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر بھر پور انداز میں طنز کیا ہے ۔ مسائل کی نشاندہی کی اور اصلاح کی کوشش کی ہے۔
سبق کا مرکزی خیال:  
سبق  " قائد اعظم اور نظم و ضبط " کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اس میں مصنف  قدرت اللہ شہاب  ہمیں سمجھانا چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنے عظیم رہنما قائد  اعظم محمد علی جناح  کی مثالی زندگی سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ایسی عادات اور اطوار کو اپنانا چاہیے جو  ملک و  قوم کی ترقی اور سلامتی کا موجب ہوں۔ نیز اپنی پیشہ وارانہ زندگی کو بددیانتی اور بے ایمانی سے پاک کر کے اُجاگر کرنا چاہیے۔
سبق کےچند تفہیمی سوالات:
1: سبق  " قائد اعظم اور نظم و ضبط " میں مصنف نے قائد اعظم کی سیرت کے کس پہلو پر روشنی ڈالی ہے؟
2: سبق  " قائد اعظم اور نظم و ضبط " کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بتائیں کہ ایک طالبعلم اپنی درسگاہ اور معاشرے میں نظم و ضبط کو  کیسےفروغ دے سکتا ہے؟

سبق نمبر7: نام دیو ۔۔۔۔ مالی
مصنف: مولوی عبدالحق
مصنف کے اندازِ بیان کی چند خصوصیات:
مقصدیت:‎ مولوی عبد الحق کی تحریرات میں مقصدیت پائی جاتی ہے۔ ان کا اولین مقصد اردو ادب کی خدمت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی اصلاح و تربیت ہے۔
مدلل انداز:‎ مولوی عبد الحق نے اپنی تحریرات میں مدلل انداز اپنایا ہے۔ انھوں نے مبالغہ آرائی کی بجائے اپنا موقف دلائل سے پیش کیا ہے۔
خلوص اور سچائی:‎ مولوی عبد الحق کی تحریرات خلوص اور سچائی سے پر ہیں۔ ان کی ہر بات دل سے نکلتی اور دل پر اثر انداز ہوتی ہے۔
بہترین سوانح/خاکہ نگاری:‎ ان کو سوانح نگاری میں کمال تھا۔ انھوں نے اپنے دور کی عظیم اور مشہور شخصیات کے علاوہ معاشرے کے کمزور اور کم اہم سمجھے جانے والے لوگوں کے حالات زندگی بھی بیان کیے ہیں۔ جیسے نام دیو مالی۔

سادہ اور آسان زبان کا استعمال:
سبق کا مرکزی خیال:  
سبق  " نام دیو۔۔۔ مالی " کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مصنف مولوی عبدالحق ہمیں یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ سچائی ، نیکی، حُسن  اور نیکی کسی کی میراث نہیں ہیں۔ یہ خوبیاں نیچی ذات والوں میں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں جیسی اونچی ذات والوں میں۔  نیز ہر شخص میں قدرت نے  کوئی نہ کوئی صلاحیت رکھی ہے۔ اس صلاحیت کو درجہ کمال تک پہنچانے میں ہی سب نیکی اور بڑائی ہے۔  اگرچہ درجہ کمال تک عام انسانوں میں سے نہ کوئی پہنچا ہے اور نہ پہنچ سکتا ہے، البتہ درجہ کمال تک پہنچنے کی کوشش  ہی انسان کو انسان بناتی ہے۔ 
سبق کےچند تفہیمی سوالات:
1: نام دیو۔۔۔ مالی کے کردار کی چند خوبیاں تحریر کریں۔ 
2: نام دیو۔۔۔ مالی  کی موت کیسے واقع ہوئی؟
3: نام دیو ۔۔۔ مالی نے اچھی کارکردگی پر انعام وصول کرنے سے کیوں انکار کیا تھا؟
4: باغ میں کام کرنے والے دیگر مالیوں کا رویہ کیسا تھا؟
5: مصنف مولوی عبد الحق نے اپنے  خاکے " نام دیو۔۔۔ مالی" میں  مالی کی کردار نگاری پیش کر کے ہمیں کیا سمجھانے کی کوشش کی ہے؟

سبق نمبر8: چچا چھکن نے دھوبن کو کپڑے دیے
مصنف:امتیاز علی تاج
مصنف کے اندازِ بیان کی چند خصوصیات:
طنز و مزاح:   سید امتیاز علی تاج کی تحریرات میں طنز و مزاح کا عنصر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔   جسے پڑھ کر شگفتگی  اور تازگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔  ان کے طنز میں چبھن تو ہے مگر   کسی کی دل آزاری نہیں ہوتی۔
کردار نگاری:   کردار نگاری میں انھیں کمال مہارت حاصل  تھی۔  وہ کردار  کو ایسی خوبصورتی سے پیش کرتے کہ اس کی صورت کے ساتھ ساتھ سیرت کا پہلو بھی واضح ہوتا ہے۔
روز مرہ اور تشبیہات کا استعمال:    انھوں نے اپنے افسانوں اور کہانیوں میں روزمرہ ، محاورات اور تشبیہات کا نہایت احسن انداز سے استعمال کیا ہے۔ ان کی اس خوبی نے ان کے افسانوں کو چار چاند لگا دیے۔
سبق کا مرکزی خیال:  
سبق "چچا چھکن نے دھوبن کو کپڑے دیے" کا مرکزی خیال یہ ہے کہبعض مردوں میں عادت ہوتی ہے کہ وہ   اپنے آپ کو سب سے زیادہ سلیقہ مند اور سگھڑ سمجھتے ہیں اور دوسروں کی کاموں میں بے جا مداخلت کرتے ہیں۔ جبکہ  عورتوں اور مردوں کے   مخصوص کام ہوتے ہیں۔  ایسے مرد جب عورتوں کے کاموں میں ٹانگ اڑاتے ہیں تو کام بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔  جب انھیں  روکا جائے تو اسے اپنی توہین سمجھتے ہوئے منہ پُھلا لیتے ہیں  یعنی ناراض ہو جاتے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ "جس کا کام اُسی کو ساجھے دوسرا کرے تو ٹھینگا باجے۔"
سبق کےچند تفہیمی سوالات:
1: چچا چھکن کے کردار کی تین خصوصیات تحریر کریں۔
2: چچی جان ہمیشہ چچا چھکن سے کیوں خفا رہتی تھیں؟
3: چچی  کیوں چاہتی تھی کہ چچا چھکن دھوبن کو کپڑے نہ دیں؟
4:  دھوبن کو کپڑے دیتے وقت گھر کی جو حالت مصنف نے بیان کی ہے اسے اپنے الفاظ میں تحریر کریں۔


سبق نمبر9: فاطمہ بنت عبداللہ
مصنف:مرزا ادیب
مصنف کے اندازِ بیان کی چند خصوصیات:

  کردار نگاری: مرزا ادیب کو کردار نگاری پر عبور حاصل تھا۔ کسی بھی کردار کی خوبیوں اور مزاج کو اس طرح واضح کرتے گویا  ہم ان کرداروں کو اپنے سامنے موجود پاتے ہیں۔

مکالمہ نگاری: مکالمہ نگاری  ان کے افسانوں کی نمایاں خوبی ہے۔ ان کے افسانے پڑھ کر ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ہم دو افراد کے مابین ہونے والی گفتگو سن رہے ہوں۔

سادگی اور تسلسل: مرزا ادیب کے افسانوں اور تحریرات میں استعمال ہونے والی زبان انتہائی سادہ اور سلیس ہے۔  اگرچہ انھوں نے دیگر کئی زبانوں کے الفاظ استعمال کیے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے یہ الفاظ عوام میں رائج ہیں۔

مقصدیت:  مرزا ادیب کی تحریرات میں مقصدیت کا عنصر نمایاں ہے۔ انھوں نے  اپنے افسانوں  اور ڈراموں کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کی ہے۔

سبق کا مرکزی خیال:  
سبق " فاطمہ بنت عبداللہ " کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اسلام کی خاطرقربانی پیش کرنے والوں میں نہ صرف بڑی عمر کے مردوں اور عورتوں نے ہی حصہ لیا ہے بلکہ اس لڑائی میں کم سن بچے بچیوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تاریخ رقم کی ہے۔ نیز مصنف مرزا ادیب  ہمیں یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ والدین کی  بہترین تربیت اور  بہادری کا  عملی نمونہ ہی  مسلمان بچوں میں اسلام کی محبت  اور قربانی کے جذبے کو پروان چڑھاتا ہے۔
سبق کےچند تفہیمی سوالات:
1: اس ڈرامے کے مرکزی کردار کونسے ہیں؟
2: اس ڈرامے میں کس جنگ کا ذکر کیا گیا ہے؟
3: فاطمہ بنت عبداللہ نے جنگ میں کیا خدمات انجام دی تھیں؟
4: فاطمہ کی والدہ اسے جنگ میں کیوں نہیں بھیجنا چاہتی تھیں؟


***مکاتیبِ غالب***
 مرزا غالب کا خط مرزا تفتہ کے نام+  مرزا غالب کا خط میر مہدی مجروح کے نام 
غالب کے خطوط نگاری کی چند خصوصیات:

1.    منفرد اندازِ مکتوب نگاری: غالب نے  اپنے خطوط میں قدیم اندازِ آداب و تکریم کو ترک کر کے جدید انداز اپنایا ہے۔   اپنے مراسلوں میں تاریخ، دن، مہینہ اور سال کا ذکر ضرور کرتے تھے۔  سلام دعا کے لیے کوئی جگہ مخصوص نہ کرتے کبھی خط کے آغاز میں ، کبھی درمیانی حصہ تو کبھی  اختتام میں سلام دعا لکھتے تھے۔

2.    ماحول کی عکاسی: غالب کے خطوط انکے ماحول، معاشرے اور تہذیب کی عکاسی کرتے تھے۔  اکثر خطوط میں وہ  اپنی صحت کا احوال بیان کرتےکرتے تختِ دہلی کی حالتِ زار اور انگریزوں کی ریشہ دوانیوں کا ذکرضرور کرتے تھے۔

3.    شوخی اور ظرافت:  غالب کے خطوط میں شوخ لہجہ پایا جاتا ہے۔ لیکن انکا شوخ لہجہ مکتوب الیہ کے مقام ، مرتبے،عمر اور مزاج کے مطابق ہوتا ہے۔

4.    مکالماتی اندازِ بیان:  انکے خطوط میں مکالماتی انداز پایا جاتا ہے۔ وہ خط اس انداز سے لکھتے گویا مکتوب الیہ کے سامنے بیٹھے اُس سے باتیں کر رہے ہوں۔

 مکاتیبِ  غالب   کےچند تفہیمی سوالات:

1: مرزا غالب نے مرزا تفتہ کو خط کیوں لکھا؟

2: غالب نے مرزا تفتہ کے نام   خط کے آغاز میں شعر کے ذریعےمکتوب الیہ کو کیا پیغام دینے کی کوشش کی ہے؟

3: غالب نے مرزا تفتہ کے نام   خط کےاختتام  میں شعر کے ذریعےمکتوب الیہ کو کیا نصیحت کی ہے؟

4: مرزا غالب کا خط میر مہدی مجروح کے نام کا مرکزی خیال تحریر کریں۔


***مکتوبِ رشید صدیقی***
رشید  احمد صدیقی کا خط نظیر احمد صدیقی  کے نام

رشید احمد صدیقی کے خطوط نگاری کی چند خصوصیات:

       بامقصد تنقید: رشید صدیقی بہترین تنقید نگار تھے۔ ان کے خطوط میں بامقصد تنقید پائی جاتی ہے۔ انکی تنقید ہمیشہ اصلاحی اور تعمیری ہوتی ہے۔

    مزاح نگاری: انکے خطوط میں طنز و مزاح کا ملا جُلا عنصر پایا جاتا ہے۔ انکا ذوقِ مزاح بہت بلند ہے اور طنز کا رنگ بہت مدھم اور دھیما ہے۔

       منفرد اندازِ مکتوب نگاری: رشید صدیقی کے مکتوب نگاری کا انداز منفرد ہے۔ انکا اندازِتحریر سادہ، زبان باوقار ہے اور دردمندی و خلوص کے جذبات نمایاں ہیں۔

 خط کےچند تفہیمی سوالات:

سوال: ایک اچھے تنقید نگار میں کیا صفات ہونی چاہئیں؟

    اچھا تنقید نگار شعر و ادب کا ضمیر ہوتا ہے۔ کیونکہ اسکی تنقید ہمیشہ سچائی پر مبنی ہوتی ہے۔ ضمیر چونکہ دل کی آواز کو کہتے ہیں اسلیے وہ شعر و ادب پر ہمیشہ خلوص کے جذبات کے ساتھ تنقید کرتا ہے۔

   وہ ہمیشہ تعصب سے پاک تنقید کرتا ہے۔ اور اس کا تجزیہ ہمیشہ غیر جانبدار ہوتا ہے۔

اسکی تنقید ہمیشہ اصلاح کی غرض سے ہوتی ہے تاکہ وہ دوسروں کی رہنمائی کر سکے.

سوال: رشید  احمد صدیقی کا خط نظیر احمد صدیقی  کے نام  کا مرکزی خیال تحریر کریں۔