--> اردو نوٹس برائے جماعت نہم و دہم کے اس بلاگ میں آپ کو خوش آمدید ۔۔۔ اُردو جماعت نہم کے نئے سلیبس کے نوٹس بھی 👇 دستیاب ہیں ۔۔۔

جماعت نہم

تصاویر برائے اردو تخلیقی تحریر

فیچر پوسٹ

روز مرہ، محاورہ، ضرب المثل

روزمرہ، محاورہ اور ضرب المثل  روزمرہ،   محاورے اور ضرب الامثال کسی بھی زبان کا حسن ہوتے ہیں۔ خاص کر اردو زبان کے محاورے اس کا سب...

جمعرات، 7 مئی، 2026

تبصرہ نگاری کے رہنما اصول ، نمونہ تبصرہ نگاری

* تبصرہ نگاری*

برائے جماعت نہم  و دہم

 *تبصرہ نگاری کسے کہتے ہیں ؟* 

کسی تحریر، کتاب، واقعے یا موضوع پر تنقیدی، تجزیاتی اور رائے پر مبنی اظہارِ خیال کو تبصرہ کہتے ہیں۔

 *تبصرہ نگاری کے بنیادی اصول کیا ہیں؟* 

1. آغاز: موضوع کا تعارف عمومی صورتحال کا ذکر۔

2. تجزیہ اور دلائل: موضوع کا گہرائی سے جائزہ لے کر اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو مختصر اور جامع انداز میں پیش کرنا، دلائل اور مثالوں سے وضاحت کرنا۔

3. رائے یا تجاویز: آخر میں تبصرہ مؤثر بنانے کے لیے دلیل، حوالوں اور مستند شواہد کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ رائے زیادہ معتبر اور قابلِ قبول ہو۔

4. پیراگراف لازمی بنائیں۔

 *تبصرہ نگاری شروع کرنے کے لیے درج ذیل پانچ نمونے کے جملے استعمال کیے جا سکتے ہیں* :

1. عمومی تعارف والا تبصرہ:

"زیرِ بحث موضوع اپنی اہمیت اور اثرات کے لحاظ سے ہمارے معاشرے میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، جس پر غور و فکر ناگزیر ہے۔"

2. تاریخی و سماجی پس منظر والا تبصرہ:

"اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ یہ مسئلہ ہمیشہ سے انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا آیا ہے، اور آج بھی اس کی اہمیت برقرار ہے۔"

3. ادبی و فکری پہلو:

"یہ موضوع نہ صرف فکری وسعت کا حامل ہے بلکہ اس پر کئی دانشوروں اور مفکرین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، جو اس کی معنویت کو مزید واضح کرتے ہیں۔"

4. موضوع کی عصری اہمیت:

"موجودہ دور میں، جہاں دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، یہ موضوع پہلے سے بھی زیادہ توجہ اور سنجیدہ غور و خوض کا متقاضی ہے۔"

5. قاری کو متوجہ کرنے والا جملہ:

"کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ اس مسئلے کا ہماری روزمرہ زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے؟ اگر نہیں، تو اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس پر سنجیدگی سے سوچیں۔"

یہ جملے کسی بھی موضوع پر تبصرہ نگاری کی مؤثر اور پراثر آغاز کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

 

نمونہ تبصرہ نگاری

سوال:

موسمیاتی تبدیلیوں کے ذمہ دار انسانی عوامل ہیں۔ کیا آپ اس نکتے سے اتفاق کرتے ہیں؟ اپنا تبصرہ تحریر کیجیے۔

جواب: میں اس نکتے سے اتفاق کرتا ہوں کہ موجودہ دور کی موسمیاتی تبدیلیوں میں انسانی عوامل کا کردار نمایاں ہے۔ اگرچہ زمین کے موسم میں قدرتی تغیرات ہمیشہ سے آتے رہے ہیں، لیکن جس تیزی اور شدت سے آج درجۂ حرارت میں اضافہ، گلیشیئرز کا پگھلنا اور بارشوں کے نظام میں بگاڑ دیکھا جا رہا ہے، وہ بڑی حد تک انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔

صنعتی انقلاب کے بعد فوسل فیول (کوئلہ، تیل اور گیس) کے بے دریغ استعمال سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ جنگلات کی کٹائی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے، کیونکہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے ماحول کو متوازن رکھتے ہیں۔ شہری آبادی میں اضافہ، گاڑیوں اور کارخانوں کا دھواں، اور پلاسٹک کا بے جا استعمال بھی ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔

عالمی موسمیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق موجودہ عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں۔ اسی طرح اقوام متحدہ بھی بارہا خبردار کر چکی ہے کہ اگر کاربن کے اخراج میں کمی نہ کی گئی تو آئندہ نسلوں کو شدید ماحولیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اگرچہ قدرتی عوامل جیسے آتش فشانی عمل یا شمسی سرگرمیاں بھی موسمیاتی نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں، مگر موجودہ دور میں انسانی مداخلت نے ان اثرات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ آج کی موسمیاتی تبدیلیوں کے بنیادی ذمہ دار انسان خود ہیں۔

لہٰذا وقت کی ضرورت ہے کہ ہم توانائی کے متبادل ذرائع اختیار کریں، شجرکاری کو فروغ دیں، اور ماحولیاتی تحفظ کو اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھیں تاکہ زمین کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔


تبصرہ نگاری                 نمونہ نمبر :2

سوال نمبر 3: انسان میں فطرت غصہ ہے۔ جب اسکی مرضی اور مزاج کے خلاف کوئی بات پیش آتی ہے تو اس میں غصے کی آگ بھڑک اٹھتی ہے ، اسکی رگیں پھول جاتی ہیں۔ چہرہ اور آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں، ہاتھ پاؤں کانپنے لگتے ہیں اور زبان لڑکھڑانے لگتی ہے۔ اسکی دماغی حالت اپنے قابو میں نہیں رہتی، یہی وہ وقت ہوتا ہے جب وہ ایسے فیصلے کرتا ہے جنکی وجہ سے اسکا مستقبل برباد ہو جاتا ہے۔

 (i) غصہ انسان کو بہت سی حسرتوں، مایوسیوں، ناکامیوں سے دوچار کرتا ہے۔

 (ii) اس پر ضبط کرنا بہت سی خوشیوں اور شادمانیوں کا ذریعہ بنتا ہے۔

(iii) غصے پر قابو پانے کی دو تجاویز تحریر کرتے ہوئے تبصرہ کریں۔

جواب:     غصہ انسان کی فطرت میں شامل ایک ایسا جذبہ ہے جو بسا اوقات اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ جب انسان کی خواہشات کے خلاف کوئی بات پیش آتی ہے تو وہ اپنے جذبات پر قابو کھو بیٹھتا ہے۔ اس کیفیت میں انسان درست اور غلط کی تمیز نہیں کر پاتا اور ایسے فیصلے کر بیٹھتا ہے جن پر بعد میں پچھتانا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غصہ انسان کو حسرتوں، مایوسیوں اور ناکامیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ بہت سے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، مواقع ضائع ہو جاتے ہیں اور انسان تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس کے برعکس اگر انسان اپنے غصے پر قابو پا لے تو یہی عمل اس کے لیے کامیابی اور خوشی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ برداشت، صبر اور تحمل انسان کی شخصیت کو نکھارتے ہیں اور اسے دوسروں کی نظروں میں معزز بناتے ہیں۔ جو لوگ اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہیں وہ نہ صرف بہتر فیصلے کرتے ہیں بلکہ اپنی زندگی میں سکون اور اطمینان بھی حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح وہ معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کرتے ہیں اور دوسروں کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔

غصے پر قابو پانے کے لیے چند مؤثر تجاویز اختیار کی جا سکتی ہیں۔ پہلی تجویز یہ ہے کہ انسان غصے کی حالت میں فوراً خاموشی اختیار کرے اور کچھ دیر کے لیے خود کو اس ماحول سے الگ کر لے تاکہ جذبات ٹھنڈے ہو سکیں۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ وضو کرنا یا پانی پینا اختیار کیا جائے، کیونکہ اس سے جسم اور ذہن کو سکون ملتا ہے۔ ان طریقوں پر عمل کر کے انسان نہ صرف اپنے غصے کو قابو میں رکھ سکتا ہے بلکہ ایک کامیاب اور خوشگوار زندگی بھی گزار سکتا ہے۔

بدھ، 13 اگست، 2025

ملی نغمہ : میرا پیارا وطن حُسنِ کلام : مظفر احمد ظفرؔ

 

ملی نغمہ : میرا پیارا وطن

حُسنِ کلام : مظفر احمد ظفرؔ

خدا اس وطن کو شاداب رکھے

ہلالی علم کو آب و تاب رکھے

 

چمکے ہمیشہ اس کا چاند تارا

ناکام و نامراد ہو، دشمن ہمارا

 

یہ دھرتی سدا ہو محبت کا گھر

نہ خوں ریزی نہ ہو جنگ کا خطر

 

رہے امن ہر سو، رہے پیار عام

نہ نفرت کا سایہ، نہ ظلم کا نظام

 

یہ دھرتی ہمیں ہے، جان سے بھی عزیز

رہیں ہم اس کی سرحدوں کے حفیظ

 

خدا یا جوانوں کو دے حوصلے

کہ علم و ہنر ہوں ان کے مشغلے

جمہور کا سوچیں، حکمراں باوفا

دل میں ہو ان کے، حب وطن کی نوا

 

نہ ہو ظلم و ستم، نا ہی انتقام

یہاں عدل وانصاف ہو، صبح و شام

 

دعا ہے کہ ہو، نسلِ نو باصفا

راضی رہیں سب، برضائے خدا

 

ہمیں دے خدایا، یقین و سکوں

کہ ہر گام پہ ہو تیرا ہی فسوں

 

تعلیم و ترقی کے منصوبے چلیں

قائد کے فرمان پہ سب صوبے چلیں

 

نہ رنگ و نسل نہ ہو فرقوں کا فرق

جو ایسا کرے، اسے کرے خدا غرق

 

وطن کو شریروں کے شر سے بچا

ظفرؔ  کی یہ التجا، سن لے اے خدا


بدھ، 30 جولائی، 2025

بعنوان "بریانی پہ مر مٹے" کلام محب احمد

 نظم بعنوان 

 "بریانی پہ مر مٹے"


جس نے کیا ایجاد، اس باورچی آنجہانی پہ مر مٹے!

دیکھتے ہی بھری پلیٹ، سب بریانی پہ مر مٹے!


اس پوری کائنات میں، چاول ہیں کائنات

ہائے اس کی خوشبو، سہانی پہ مر مٹے!


اماں نے دم لگایا، اٹھی جو مہک  خاص،

خوشبو میں ایسا کھو ئے، کہ بریانی پہ مر مٹے!


سات پکوانوں کے درمیاں، اک چیز تھی جدا،

تیزی سے آگے بڑھ کے ہم، بریانی پہ مر مٹے!


آیا جب تھال سامنے، روح کانپنے لگی،

پکڑی پلیٹ ہاتھ میں، بریانی پہ مر مٹے!


بوٹیوں کی تہ لگی تھی، مصالحوں کی تھی بھر مار

ہر دانے میں رچی ہوئی، نکہت زعفرانی پہ مر مٹے!


پوچھا جو میزباں نے، آپ کو کیسا لگا طعام؟

ہم بول اٹھے مسکرا کے، "آپ کی بریانی پہ مر مٹے!"


جس گھر میں یہ پکی ہو، ہمسائے بھی ہوں پریشاں

بچے بھی گلی کے سارے، بریانی پہ مر مٹے!


رشتہ ہوا کیسے طے؟ کیسے کی گئی تھی ہاں؟

سن کے عشق کی اک سچی، کہانی پہ مر مٹے!


دیکھا نہ روپ اس کا،  دیکھے نہ نقش و نین

ماموں تو ان کے ہاتھ کی، بریانی پہ مر مٹے!


خیالوں میں پکے پلاؤ  کا،  بھی انداز ہے جدا

بکرے بھی سر کٹا کے, بریانی پہ مر مٹے!


ووٹ کسے دینا ہے؟ کس پارٹی کا منشور ہے پسند؟

اس بار بھی ووٹرز انتخاب میں، بریانی پہ مر مٹے!


عیدیں، بقر عیدیں، یا ہو سالگرہ کی شام،

اٹھی جو دیگ گرم،  سب بریانی پہ مر مٹے!


کراچی، حیدرآبادی، پشاوری، سٹوڈنٹ یا ہو خان

چکن ہو یا مٹن ، لوگ تو بس بریانی پہ مر مٹے!


دھوکے بھی کھائے ہم نے اور سہے کئی ستم،

پھر بھی رہے وفا پر، بریانی پہ مر مٹے!


محب! میدان عشق میں، کیا کیا نہ ہم سہے،

آخر میں سچ یہی کہ, بریانی پہ مر مٹے!


کلام:  محب احمد

فرسٹ ائیر


بدھ، 9 جولائی، 2025

غزل: ہم اپنی دنیا میں مگن ہیں، ہمیں رہنے دو کلام: مظفر احمد ظفر

غزل: ہم اپنی دنیا میں مگن ہیں، ہمیں رہنے دو کلام: مظفر احمد ظفر

غزل: ہم اپنی دنیا میں مگن ہیں، ہمیں رہنے دو

کلام: مظفر احمد ظفر

ہم اپنی دنیا میں مگن ہیں، ہمیں رہنے دو

جو ہم سے پیچھے رہ گئے، انھیں رہنے دو

تمہاری یاد کے سائے میں ہم جی لیں گے

تم آئے نہیں اب تک، تو پھر اب رہنے دو

ہم اپنے درد سے خوب آشنا ہیں اب تو

نصیب کا قصہ نہ چھیڑو، رہنے دو

یہ ٹوٹا دل سنبھل جائے گا آخر اک دن

مرہم کے نام پر نمک مت لگاؤ، رہنے دو

امید کے سہارے بہت دن جی چکے ہم

اب نئے وعدے، نیا سہارا، رہنے دو

جو بات لب پہ آ کے رُک جائے، بہتر ہے

خاموشیوں میں جو چھپا ہے، رہنے دو

ظفر! جگر کی حالت پہ دنیا ہنستی ہے

کسی سے اپنا فسانہ مت کہو، رہنے دو

 


دل ہے اُسی کے پاس ہیں سانسیں اسی کے پاس

دیکھا اُسے تو رہ گئیں آنکھیں اُسی کے پاس


ہم نے اپنے سب خواب اُسی کو دیے ہیں سونپ

اب ہیں ہماری راتیں اور نیندیں اسی کے 

پاس


ہفتہ، 5 جولائی، 2025

مکمل اردو حروفِ تہجی پر مشتمل ایک جملہ

 اردو زبان میں ایسا جملہ جس میں تمام حروفِ تہجی (ا سے ے تک) شامل ہوں، "حروفِ تہجی کا جملہ" کہلاتا ہے، اور اسے "پینگرام" (Pangram) بھی کہا جاتا ہے۔

مکمل اردو حروفِ تہجی پر مشتمل ایک جملہ:

"ایک روز صادق نامی ذہین مگر ضعیف حکیم جنگل سے مفید جڑی بوٹیاں اور ثمر اکٹھے کرتے ہوئے ظالم اور خطرناک اژدھے کے شور کے ڈر سے قریبی غار میں چھپ گیا۔"


 اس جملے کے خالق کا نام: مظفر احمد ظفر